امريكہ میں قران سوزی کے المناک واقعے پر ملت ایران نے جمعہ کو بھرپور طریقے سے احتجاج کیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی سید علی خامنہ ای کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے پوری قوم سراپا احتجاج بن گئی اور سڑکوں پر نکل آئی۔امریکہ میں قرآن کی بے حرمتی کی مذمت میں رہبر انقلاب اسلامی کا پیغام اقوام متحدہ کی دستاویز کی حیثیت سے جاری کیا گيا ہے۔اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمایندے محمد خزاعی نے بتایا کہ قرآن کی بےحرمتی کی مذمت میں رہبر انقلاب اسلامی کا پیغام اس وجہ سے اقوام متحدہ کی دستاویز کی حیثیت سے جاری کیا گیا ہے تا کہ اس مسئلہ کی طرف عالمی برادری کو توجہ دلائي جائے اور قرآن کی بے حرمتی کے خطرناک نتائج کی جانب سے خبردار کیا جائے۔محمد خزاعی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی اہم دستاویز کی حیثیت سے جاری کیا گيا،رہبر انقلاب اسلامی کا پیغام تمام ملکوں کو بھیجا جائے گا۔ یاد رہے امریکہ میں گيارہ ستمبر کی برسی کے موقع پر قرآن کی بے حرمتی کی گئي تھی،جس کی مذمت میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایک پیغام جاری کر کے قرآن و اسلام کے خلاف صیہونیوں کے پس پردہ اھداف اور دشمنیوں سے پردہ اٹھایا اور امریکی حکومت میں صیہونی حلقوں کو قرآن کی بے حرمتی کا ذمہ دار قرار دیا۔رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے پیغام میں تاکید کی تھی کہ اگر امریکی حکومت قرآن کی بے حرمتی کے واقعات میں ملوث ہونے سے انکار کرتی ہے تو اسے اس گھناؤنے اقدام میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دینا چاہیے۔ حقیقت تو یہی کہ قران سوزی کے واقعے میں امریکی حکام کی اگر مرضی اور منشا شامل نہ ہوتی تو کسی کو اس میں شک نہیں کرنا چاہیے کہ کوئی بھی امریکی شہری یہ قدم اٹھانے کی جرائت نہ کرتا۔چنانچہ اس المناک واقعے میں کسی ایک آدھ جنونی پادری کے ملوث ہونے کے امکان کو رہبر انقلاب اسلامی نے مسترد کرتے ہوئے،اسے ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے اور اسی حقیقت کو درک کرتے ہوئے جمعہ کو پوری ایرانی قوم سڑکوں پر نکل آئی۔اطلاعات کے مطابق دارالحکومت تہران سمیت پورے ایران میں نماز جمعہ کے فورا بعد لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے احتجاجی ریلیوں اور جلوسوں کی شکل میں اس واقعے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ اور صہیونی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔مظاہرین نے جلوسوں کے اختتام پر ایک قرار داد پاس کی،جس میں کہا گيا ہے کہ عالمی صیہونیزم اور مجرم امریکہ کے ہاتھوں قرآن کی بے حرمتی کا سبب ان کی بے بسی اور بیچارگي اور مغرب کے لبرل دیموکریٹک نظاموں کا زوال ہے۔اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قرآن کریم آسمانی کتاب ہے اور اس کی بےحرمتی تمام تمام ادیان الھی اور انبیاء کی بے حرمتی ہے۔اس قرارداد میں مغرب کے لبرل اور سرمایہ دارانہ نظام کو خبر دار کیا گيا ہے کہ اگر وہ دین اسلام کے مقابل کھڑا ہو گا،تو اسلام بھی اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔اس قرارداد میں آيا ہے کہ ملت ایران سمیت دنیا کے بیدار مسلمانوں کو کسی طرح کا شک نہیں ہے کہ گيارہ ستمبر دو ہزار ایک کے واقعے میں صیہونی لابیاں ملوث ہيں اور ملت ایران اور بیدار مسلمانوں نے دنیا کے آزاد ضمیر افراد اور دانشوروں سے اپیل کی ہے کہ مستقل اور آزاد تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دے کر گيارہ ستمبر دو ہزار ایک کے مشکوک واقعات میں دین مخالف صیہونی عناصر کے اصلی چہروں سے نقاب ہٹائيں۔اس قرارداد میں آیا ہے کہ قرآن مقدس کی بےحرمتی کا اقدام مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیاں تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش ہے،لھذا ملت ایران کلیسا کو خبردار کرتی ہے کہ وہ عالمی سامراج کی سیاسی چالوں میں نہ پھنسے اور حضرت عیسی علیہ السلام کے حقیقی پیرووں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ہوشیار رہیں۔اسلامی جمہوریہ ایران میں نمازیوں نے اپنے مظاہروں کے بعد طے کی جانے والی قرارداد میں عالمی سطح پر علماء،دانشوروں اور مذھبی و ثقافتی اور قانوں ساز اداروں سے اپیل کی ہے کہ ادیان کی بے حرمتی کی روک تھام کے لئے عالمی منشور کی تدوین میں حصہ لیں۔اس سے قبل خطیب جمعہ تہران نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ میں قرآن سوزی کو جنون آمیز واقعہ قرار دیا۔آیت اللہ جنتی نے رہبر انقلاب اسلامی کے اس بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اسلامی بیداری سے مغرب کی بنیادیں ہل گئي ہیں،کہا کہ قرآن صرف ایران سے مخصوص نہیں ہے،بلکہ قرآن مجید ایک ارب پانچ سو ملین مسلمانوں کی آسمانی اور مقدس کتاب ہے،جس کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔خطیب جمعہ تہران نے اس طرح کے غیر معقول اقدامات کا بنیادی ذمہ دار مغرب ہے اور مغرب اس طرح کے جو بھی اقدامات کرے گا،اسی کا نقصان ہو گا۔ البتہ مسلم امہ کو اس حقیقت کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے کہ اس وقت عالمی کفر اور اس وابستہ قوتیں اسلام کو اپنے نشانے پر لئے ہوئے ہیں،لہذا جو بھی قدم اٹھایا جائے،وہ پوری یکجہتی کے ساتھ اٹھایا جائے اور وہ اتنا بھرپور ہونا چاہیے کہ مغربی دنیا خصوصا امریکہ ہل کر رہ جائے۔ایرانی حکومت،ملت ایران اور رھبر انقلاب اسلامی،قران اور اسلام کے حوالے سے اپنا فریضہ جس احسن طریقے سے نبھا رھے ہیں،وہ یقینا مسلم امہ کے لئے مشعل راہ ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلے میں مسلمان حکومتیں اور تنظیمیں بھی قدم آگے بڑھائیں اور اس معاملے کو سرسری نہ لیں۔ .....
/110